پیر, فروری 23, 2015

ولایت فقیہ یا ولایت قبیح

 ولی فقیہ کو زمین پر خدا کا نمائندہ کہنا اور اسے پیغمبر کے تمام اختیارات کا حامل سمجھنا کیا خدا، دین اور رسول خدا کے ساتھ زیادتی نہیں؟

دنیا کی تاریخ میں دین اور مذہبی اعتقادات کو اقتدار کے حصول کے لئے ہمیشہ استعمال کیا  جاتا رہا ہے خواہ وہ قرون اولیٰ ہو، قرون وسطیٰ ہو یا دور حاضر۔ دور قدیم کے فراعنہ خدائی کا دعویٰ کرتے تھے ، اسی طرح کلیسا نے ایک طویل عرصہ خدا کے نام پر حکومت کی جو اب زمین بوس ہوچکی ہےیا صدر اسلام کے بعد کے ادوار  میں مختلف حکومتیں دین کو اپنے اقتدار کی مضبوطی اور اپنے مخالفین کی سرکوبی کے لئے  استعمال کرتے  رہے ہیں۔  دور حاضر میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی اقتدار کے بھوکے اپنی حکومتوں کو تقویت بخشنے اوراپنے مخالفین کو نیست و نابود کرنے  کے لئے خدا، دین اور پیغمبر خداکو اپنے لئے ڈھال بناتے ہیں۔  جیسے ایران کی نام نہاد اسلامی جمہوری حکومت  یا افغانستان میں طالبان کی حکومت کا ناکام تجربہ۔

ایران کے اسلامی انقلاب نے ابتدا میں پوری دنیا کو اور خصوصا دنیائے اسلام کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب ایران کے عوام نے اپنے جانوں پر کھیل کر  شاہ ایران کو ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور کر دیا اور آقائے خمینی اور ان کے حمایتی، حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئے۔ دنیائے اسلام نےایران سے توقعات وابستہ کرلئے جبکہ شیعیان جہان نے ایران کو اپنا قبلہ بنالیا اور اس نام نہاد اسلامی حکومت کے گن گانے لگ گئے۔ لیکن بہت جلد  دنیائے تشیع کی امیدوں کا یہ بُت بہت دھڑام سے نیچے گرا اور اس کے دھول سے ان کی آنکھیں اٹ گئیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں میں تشیع کی طرف تکفیر اورقتل و غارت گری کا ایک ایسا ریلا آیا  جس نے تباہی پھیلادی اور شیعیان آج تک  اس کے ملبے تلے سے خود کو نکال نہیں پائے، اُن کے لئے خود کو اس تباہی سے بچانا مشکل ہوچکا ہے ۔

اپنی حکومت کو تقدس بخشنے اور اس کی مخالفت کو حرام جلوہ دینے کے لئے جمہوری اسلامی ایران، اپنی رژیم کو خدائی رنگ دیتا ہے اور رہبر کی  ولایت کو رسول خدا  کی ولایت قرار دیتا ہے اور ہر مسلمان کے لئے بلاچون چرا اس کی اطاعت کو واجب قرار دیتا ہے۔ آقائے خمینی کا درج ذیل مشہور قول ایران میں ہر جگہ نظر آتا ہے خصوصا تہران کے جامع مسجد جہاں آجکل  آقائے خامنہ ای خطاب کرتے ہیں۔ اس مسجد کے ڈائس کے سامنے یہ قول بڑے حروف میں لکھا ہوا ہے اور نیچے آقائے خمینی کے مہر اور دستخط بھی موجود ہیں:

« ولایت فقیہ ھمان ولایت رسول اللہاست « (امام خمینی)

یعنی « ولایت فقیہ عین  ولایت رسول اللہﷺ ہے «

تیس سال کے عرصے سے ایرانی عوام و شیعیانِ جہاں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی رہی ہے کہ یہ حکومت امام زمانہ کی حکومت ہے لہذا بڑے دھڑلے سے اس رژیم کے لئے جو نام استعمال کیا جاتا ہے وہ یہ ہے:

« نظام مقدس جمھوری اسلامی « یعنی « جمہوری اسلامی کا مقدس نظام «

اس پر مستضاد یہ کہ اس نظام کی مخالفت کو حرام قرار دیتے ہوئے مخالف کو موت کا مستحق قرار دیا جاتا  ہے۔ آیت اللہ خمینی کے فرمان پر  ایران اور ساری دنیا میں سادہ لوح شیعہ عوام اور علماء  بغیر سوچے سمجھے  بڑے شدومد سے یہ نعرہ بھی لگاتے ہیں:

« مرگ بر ضد ولایت فقیہ « یعنی « ولایت فقیہ کا مخالف مردہ باد «

ایران کی اسلامی حکومت اپنے مخالفین کو سرکوب کرنے اور  انکی ناک رگڑنے کے لئے ہر طرح کے سلوک کو جائز اور ان کی جان و مال و عزت و آبرو کو اپنے اوپر حلال سمجھتے ہیں، ان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کرنا عین عبادت اور دین خدا کی خدمت سمجھتے ہیں۔  آقائے مصباح یزدی نے تو حد کردی، اپنے رسالے میں فرمایا کہ دشمنوں کے بیوی بچوں کو غلام اور کنیز بھی بنایا جا سکتا ہے۔آج کے اس آزادی و خودمختاری کے روشن دور  میں جب کہ ساری دنیا ،حتی بقول آقایان، کفار  بھی انسانی اقدار، آزادی  وغیرہ کے حوالے سے قراردادیں پاس کرتے پھر رہے ہیں  یہ ان آقایان کی حالت ہے۔

آیت اللہ خمینی نے 25/8/1360 شمسی کوایک سرکاری ادارہ  بنیاد شہید کے عہدیداروں سے ملاقات کے دوران اپنی گفتگو میں نظام جمہوری اسلامی کی حفاظت کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا۔

« ۔۔۔حفظ جمهورى­اسلامى از حفظ يك نفر- و لو امام­عصر باشد- اهميتش بيشتر است؛ براى اينكه امام­عصر هم خودش را فدا مى‏كند براى اسلام۔۔۔۔ «

یعنی « ۔۔۔ جمہوری اسلامی کی حفاظت ایک نفر کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے اگرچہ وہ ایک نفر امام زمانہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ امام زمان اسلام کے لئے خود کو قربان کرے گا۔۔۔ «

پچھلے 37 سال کے عرصے میں جمہوری اسلامی ایران نے اسلام کے نام پر احکامِ اسلامی اور حقوقِ انسانی کے تمام معیاروں کو پامال کیا اور ایک آمرانہ حکومت  کی شرمناک مثال قائم کی، اس لئے اس حکومت کو  اسلامی کہنا، اسلام کی توہین ہے۔  امام زمانہ ؑ اسلام پر اپنی جان  ضرور نچھاور کرے گا لیکن جمہوری اسلامی  اپنی سیاہ کارکردگیوں کی وجہ سے یقیناً ان کی نظر میں معتوب ہوگی۔ پس اگر امام زمان (ع) اس نظام کی مخالفت کرے گا  تو نعوذ باللہ یہ لوگ امام ؑ  کو فدائے جمہوری اسلامی کریں گے!!؟؟

آیت اللہ خمینی کے  درج ذیل اقوال بھی اس سلسلے میں قابل توجہ ہیں ۔ 

- « برای حفظ نظام اگر لازم شد، احکام اسلامی هم می توانند معلق شوند «

یعنی «نظا م کی حفاظت کی خاطر اگر لازم ہوا تو احکام اسلامی کو بھی معطل کیا جا سکتا ہے«

- « حفظ نظام از اوجب واجبات است «

یعنی « نظام کی حفاظت تمام واجبات سے واجب تر ہے «

آیت اللہ خمینی کے اس قول سے حوصلہ پاکر آج ایران کے بعض مراجع، اعلیٰ فوجی، اور سرکاری اداروں کے سربراہان اپنی تقریروں ، نجی اور سرکاری نشستوں میں درج ذیل بدعتی قول اپنی نوک زبان پر رکھتے ہیں:

« حفظ نظام از نماز ھم واجب تر است «

یعنی « نظام کی حفاظت نماز سے بھی  واجب تر ہے«

ذیل میں بعض فارسی اخبارات کے سطروں کا عین اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔

1۔ آیت اللہ نوری ھمدانی نظام کی حفاظت کو ایک اہم موضوع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں: نظام کی حفاظت دوسرے واجبات جیسے نماز و روزہ سے واجب تر ہے اور یہ انقلاب امام زمانہ(عج) کے ظہور کی تیاری ہے۔www.salam-aqa

2۔ امام حسین یونیورسٹی کے کمانڈر جنرل مرتضیٰ صفاری نے سامراجی سازشوں کے درمیان نظامِ جمہوری اسلامی کی حفاظت کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: نظام اسلامی کی حفاظت نماز سے بھی واجب تر ہے۔ http://nedayeurmia.ir/

3۔ نظام کی حفاظت نماز سے بھی واجب تر ہے: سپاہ پاسداران کے کمانڈر نے فتویٰ دیا۔ پاسدار بریگیڈیئر محمد علی جعفری اپنے تازہ ترین بیانات کی روشنی میں ایک فوجی آفیسر کم اور ایک عالم دین زیادہ دکھائی دیئے۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ جمہوری اسلامی کی حفاظت کی خاطر نماز تک کو بھی چھوڑا جا سکتا ہے۔ http://www.ettelaat.net/


آیت اللہ خمینی ایک زمانے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ سلطنت کے خلاف علم بغاوت اٹھانا حرام ہے۔ یہ بات انہوں نے انقلاب سے 25 سال پہلی کہی تھی لیکن بعد میں وہ خود اس بغاوت کے علمبردار بن گئے۔ (مہدی خلجی : اندیشہ ٹی وی کے ساتھ گفتگو)

ایک زمانے میں جب شاہ ایران نے انقلابِ سفید کے نام سے عورتوں کو ووٹ کا حق دینا چاہا تو آیت اللہ خمینی نے کہا کہ اسلام میں عورتوں کا ووٹ ڈالنا حرام ہے۔ انقلاب کے بعد ریفرنڈم میں ووٹوں کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے کہا کہ عورتیں گھروں سے باہر نکل کر ووٹ ڈالیں اور اسلام کی تقویت کا سبب بنیں۔ (مہدی خلجی : اندیشہ ٹی وی کے ساتھ گفتگو)

حکومت ایران اور  ولایت فقیہ کے حمایتی، ایک خطاکار و گنہگار اور ظالم انسان کو بڑے فخر سے  ولی امر کاخطاب دیتے ہیں اور اس خطاب کو پورے عالم اسلام میں فروغ دینے کے لئے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے نظر آتے  ہیں:

« ولی امر مسلمین جھان امام خامنہ ای «

یعنی «مسلمین جہان کے امور کا سرپرست امام خامنہ ای«

یاد رہے کہ انقلابی حضرات ولی امر سے مراد  سرپرست، حاکم، نگہبان اور مومنین کے جان و مال پر اولیٰ بالتصرف لیتے ہیں اور ولی امر کو آیہ شریفہ  أَطیعُوا اللَّهَ وَ أَطیعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِی الْأَمْرِ مِنْکُم کا مصداق سمجھتے ہیں۔ اس نظام کے بانیان اور اس کے پیروان اپنے رہبر کو اللہ اور رسول کی صف میں قرار دیتے ہیں۔ یعنی جس طرح اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مسلمانوں پر واجب ہے، اسی طرح ولی امر کی اطاعت بھی ان پر واجب ہے۔ ان کے لئے ضروری ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کی طرح ولی امر کی اطاعت و فرمانبرداری کریں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ولی امر کی اطاعت نہ کرنے والا خدا و رسول کی اطاعت سے بھی خارج ہوتا ہے۔ آقائے خامنہ ای کے بے بنیاد اور خطرناک فتووں میں سے ایک فتویٰ یہ ہے کہ اجتماعی و سیاسی مسائل میں نہ صرف عام مسلمان ولی امر کی اطاعت کا پابند ہے بلکہ مجتہدین عظام پر بھی ان کی اطاعت واجب ہے۔

یہ جملہ  بھی جمہوری اسلامی کے خالی خولی اور بے بنیاد نعروں میں سے ایک ہے جسے دیکھ کر اور سن کر ایک دیانتدار انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے:

«دیانت ما عین سیاست مااست«

یعنی « ہماری سیاست ہی ہمارا دین ہے«

ہماری مشکلات کا ایک راز یہی نعرہ ہے۔ جب ہم سیاست کو ہی ہمارا دین قرار دیں تو سیاست کی یہ خصوصیت ہے وہ گرگٹ کی طرح ہمیشہ رنگ بدلتی ہے، سیاست ہمیشہ متغیر اور متلون ہے، سیاست میں اونچ نیچ پائی جاتی ہے۔ دیانت جو کہ سکینہ قلب کا باعث ہے جب ہم اس کو روزمرہ کی سیاست کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں تو اس وقت سیاست کی تمام آفتوں کا رخ دیانت کی طرف مڑ جاتا ہے، اور متاسفانہ ایسا ہوچکا ہے اورآج اس کی نشانیاں ہم اپنے معاشرے میں ہر طرف دیکھ رہے ہیں۔

انہی مسائل کی وجہ سے آج روشن خیال دینی مفکرین اس حتمی  نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اعتقاداتِ دینی کو محفوظ رکھنے کا بہترین راستہ سیکولریزم ہے، یعنی وہ میدان سیاست کو میدان اعتقادات سے جدا دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی کو  اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہتے کہ اپنی دینی تفوق اور برتری کی وجہ سے سیاست و حکومت کو صرف اپنا حق سمجھے، انہیں سیاست میں آنے کا حق ضرور ہے لیکن باقی لوگوں  سے وہ برتر نہیں بلکہ سب مساوی ہیں،انہیں  فقیہ ، عالم یا دیندار کے عنوان سے دوسروں پر کوئی امتیاز اور برتری حاصل نہیں۔ کسی کے امتیاز و اعتبار کا فیصلہ صرف عوام کے ہاتھ میں ہے اور  یہ عوام کی رائے ہے جو اس بات کا تعین کرنے والا ہے۔

اگر کوئی اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ خدا نے سیاست اور دنیاوی حاکمیت کے سلسلے میں کسی  شخص یا گروہ کو کسی قسم کی برتری دی ہے تو وہ  قدیم زمانوں کے توہمات میں گرفتار ہے۔  خدا نے کسی کو بھی سیاست کے میدان میں برتری و فوقیت نہیں دی ہے ۔ ایران معاصر میں جمہوری اسلامی کی وجہ سے دینی تفکر اور عمل میں جورخنہ و خلل  پیدا ہوا ہے اور دین کو جو  نقصان پہنچا ہے  تاریخ کے کسی بھی دور میں نہیں پہنچا، اور یہ ایک نہایت تلخ مسئلہ ہے۔   لہذا  ہمیں چاہئے کہ پورے وثوق کے ساتھ حکومتی اداروں اور دینی و  اعتقادی میدانوں میں جدائی پر یقین رکھیں۔  ولایت مطلقہ فقیہ اور حکومت اسلامی  اسلام ،ایمان اور اخلاق  کے بنیادی اصولوں کے لئے نہایت نقصان دہ ہیں۔

انسان کے صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں آج روشن خیال دینی مفکرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس مسئلے کا واحد حل ایک ایسی سیکولر حکومت ہے جس میں دین کا ادارہ  حکومت کے ادارے سے جدا ہو۔  اس سیکولر
حکومت کی  درج ذیل پانچ خصوصیات ہوں گی:

1۔   یہ حکومت  زمینی اور انسانی حکومت ہوگی نہ کہ آسمانی اور  قدسی۔
2۔   یہ حکومت عرفی عقلی قوانین کا نافذ کنندہ ہوگی شریعت کا نہیں۔
3۔   اس حکومت میں علماء، فقہاء اور مفتیان کو کسی قسم کی امتیازی حیثیت حاصل نہ ہوگی۔ یعنی علماء، فقہاء اور مفتیان کو اس سلسلے میں  کوئی امتیازی حق حاصل نہ ہوگا
4۔   یہ حکومت تمام مذاہب اور فرقوں کو ایک ہی نظر سے دیکھے گی۔ یعنی نہ کسی خاص دین و فرقہ کی حمایت کرے گی اور نہ ہی کسی کی مخالفت۔

5۔   اس حکومت کا کوئی مذہب ہوگا یا نہیں یا سرکاری مذہب کیا ہوگی یہ ایک قابل بحث موضوع ہے۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں