پیر, نومبر 9, 2015

ولی فقیہ کھوٹا سکہ - حق گوئی سے بیر، جمہوری اسلامی کی دیرینہ روایت


آذری قمی کی نگاہ میں، اس زمانے میں آقائے خامنہ ای زیادہ سے زیادہ  ”جزوی مجتہد“ تھے، اجتہاد کا ایک ایسا درجہ جس کی تائید صرف رہبری کے لئے کی گئی تھی اور یہ اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی طرح تھی کہ جس کے ساتھ کوئی شخص طبابت نہیں کرسکتا۔ علاوہ ازیں مرجعیت اور فتویٰ کے لئے فقہ میں ”اعلمیت“ لازمی ہوتی ہے، اور آذری قمی کی نظر میں حجت الاسلام والمسلمین خامنہ ای فتویٰ کے لئے لازم فقہی اعلمیت کا حامل ہونا تو درکنار یقیناً مجتہد مطلق بھی  نہیں تھے۔

آیت اللّٰہ احمدآذری قمی کا سیاسی عروج و زوال
نام :      احمد آذری قمی

پیشہ :   مجتہد اور  سیاست دان

عہدہ :   (1) ممبر مجلس خبرگان آئین (2) ممبر شورائے نظرثانی آئین (3) ممبر مجلس شورائے اسلامی  (4) ممبرمجلس خبرگان رہبری  (5)  شریک بانی و ممبر انجمن مدرسین حوزہ علمیہ قم (6) بانی روزنامہ رسالت

آیت اللّٰہ خمینی کے زمانے میں آقائے موسوی (سابق صدر)کی مخالفت اور آقائے خامنہ ای کی شدید حمایت کی وجہ سے آقائے خامنہ ای کی حمایت کنندگان میں انہیں نمایاں اور ممتاز حیثیت حاصل رہی ہے۔

ہنگامہ خیز سیاسی زندگی پر ایک نظر

آیت اللّٰہ احمد آذری قمی کے سیاسی افکار چند پایوں میں استوار ہے: پہلا، پرائیویٹائزیشن کی بھرپور حمایت اور ہر قسم کے نیشنلائزیشن کی شدید مخالفت، دوسرا، ولایت فقیہ کی شدید و پُرجوش حمایت، تیسرا، آیت اللّٰہ خمینی سے اپنے خاص انداز میں ارادت اور وفاداری اور انقلاب اسلامی کی حمایت، چوتھا، ہوا کے مخالف رُخ میں پرواز کرنے کی جرات  اور حکومت کی اعلیٰ قیادت حتی مقام رہبری پر بھی تنقید کرنے کی شجاعت، پانچواں، اپنے نظریات پر نظرثانی اور تغیر میں سرعت عمل، چھٹا،  حمایت اور مخالفت میں حد سے بڑھ جانا اور میانہ روی کا فقدان، ساتواں اور آخری، پیچیدگی سے دور ایک طرح کی سچائی اور سادگی پر مبنی شخصیت۔

آیت اللّٰہ خمینی کی رہبری کا دور

آذری قمی نے جب سے خود کو پہچانا ستم شاہی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ جمہوری اسلامی کی تشکیل کے بعد ابتدائی پانچ سالوں میں عدالتی نظام کے ایک عہدہ دار کی حیثیت سے ان کا طرزِ عمل آیت اللہ خلخالی جیسا رہا ہے۔ مجلس شورائے اسلامی کے دوسرے ٹرم میں وہ آیت اللّٰہ خمینی کی پسندیدہ  اور مورد تائید موسوی کابینہ کے مخالف 99 نفری گروہ کا لیڈر تھا۔بعض سیاسی و معاشی پالیسیوں میں اپنے استاد اور رہبر جمہوری اسلامی آیت اللّٰہ خمینی کی رائے کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہوئے کم از کم دو بار اُنہیں تنقیدی مکتوبات لکھے۔مجموعی طور پر انہوں نے جہاں بھی حکومتی پالیسیوں میں خامیاں نظرآئیں بے باکی کے ساتھ حکومت پر تنقید کی اور اربابِ اقتدار کے ہاں میں ہاں ملانے کا شیوہ اختیار نہیں کیا۔

ولایت فقیہ کا پرجوش حامی

مجلس خبرگان رہبری کے  پہلے اور دوسرے ٹرم کے ممبر کی حیثیت سے ان کے کارہائے نمایاں میں  ”شورائی رہبری“ کے مقابلے میں”فردی رہبری“ کی حمایت اور ممبر شورائے نظرثانی آئین کی حیثیت سے ملک کے آئین میں ”ولایت مطلقہ فقیہ“ کو داخل کرنے کی حمایت  اُن کے یادگار کارناموں میں سے ایک ہے۔ وہ معتقد تھے کہ آئین پر نظرثانی کے نتیجے میں جس چیز کو حذف کیا گیاوہ رہبر کے لئے مرجعیت کی شرط تھی، لیکن یہ شرط کہ اُس کا ”مجتہد جامع الشرائط “ ہونا لازمی ہے اپنی جگہ باقی تھی۔ اس کا یہ مطلب تھا کہ صرف ”مجتہد مطلق“ ہی ولی فقیہ بن سکتا ہے اور ”جزوی مجتہد“ نہ مرجعیت کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ رہبری کی۔

آیت اللّٰہ آذری قمی کی نگاہ میں آیت اللّٰہ خمینی اپنے زمانے میں فقیہ اعلم، مرجع تقلید اور ولی فقیہ مطلق تھے۔ آیت اللّٰہ خمینی کی وفات کے بعد آذری قمی  کی نظر میں فقیہ اعلم کی حیثیت سے مرحوم آیت اللّٰہ سید محمد رضا گلپائیگانی ولایت رکھتے تھے اور حجت الاسلام والمسلمین سید علی خامنہ ای انتظامی امور میں ان کے معاون کی حیثیت رکھتے تھے جن پر لازم تھا کہ  کہ فقیہ اعلم کی اجازت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے۔ انہوں نے اس نکتے کو مجلس خبرگان میں پیش کیا، لیکن  حمایت میں کوئی ووٹ نہیں ملا۔ اگلے مرحلے میں انہوں نے آقائے خامنہ ای کی رہبری کو ”ضرورت کے عنوان سے“ قبول کیا۔

گھر کا بھیدی

رہبری کے ابتدائی پانچ سالوں میں حجت الاسلام والمسلمین خامنہ ای  اور آذری قمی کے درمیان نہایت قریبی تعلقات استوار تھے اور اُن کا شمار رہبر کے پرجوش حمایت کنندگان میں ہوتا تھا۔ انہی ابتدائی مہینوں میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ولی فقیہ توحید (عملی)کو عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے! اور  وجوہات شرعی (خمس، زکات، فطرہ وغیرہ) صرف ولی فقیہ کے لئے مختص ہے۔ ان کے اپنے کہنے کے مطابق اس آخری فتویٰ کا انہیں مادی فائدہ بھی پہنچا تھا۔مجلس عزا میں قمہ زنی کے حرام ہونے بارے رہبر کے فتویٰ کی مخالفت کو انہوں نے گناہ کبیرہ قرار دیا تھا۔

تبدیلی کا آغاز

آیت اللّٰہ آذری جنہوں نے آیت اللّٰہ گلپائیگانی کی رحلت کے بعد آیت اللّٰہ اراکی کو مرجع اعلم اعلان کیا تھا، بعد کے سالوں میں حکومتی، اقتصادی و اجتماعی مسائل میں خود کو اعلم جانتے ہوئے اپنارسالہ علمیہ  (نہ کہ  رسالہ عملیہ) تدوین کرنا شروع کیا اور 1994ء میں اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا، لیکن ان کے توقعات کے برخلاف وزارت اطلاعات و نشریات نےاسے چھاپنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ بات آذری قمی پر بے حد گراں گزری۔  اسی کے ساتھ رہبری کی طرف سے دیئے جانے والے مراعات کا دروازہ بھی ان پر بند کر دیا گیا۔ آذری کے افکار پرآخری ضرب اس وقت لگی جب انجمن مدرسین حوزہ علمیہ قم نے مقام رہبری  کو ”جائز التقلید“ مجتہدین میں سے ایک ہونے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں مراجعِ تقلید کی صف میں لاکھڑا کر دیا۔

جُزوی مجتہد

آذری قمی کی نگاہ میں، اس زمانے میں آقائے خامنہ ای زیادہ سے زیادہ  ”جزوی مجتہد“ تھے، اجتہاد کا ایک ایسا درجہ جس کی تائید صرف رہبری کے لئے کی گئی تھی اور یہ اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کی طرح تھی کہ جس کے ساتھ کوئی شخص طبابت نہیں کرسکتا۔ علاوہ ازیں مرجعیت اور فتویٰ کے لئے فقہ میں ”اعلمیت“ لازمی ہوتی ہے، اور آذری قمی کی نظر میں حجت الاسلام والمسلمین خامنہ ای فتویٰ کے لئے لازم فقہی اعلمیت کا حامل ہونا تو درکنار یقیناً مجتہد مطلق بھی  نہیں تھے۔ اس زمانے میں وہ مرحوم آیت اللّٰہ محمد تقی بہجت کو اعلم الفقہاء جانتے تھے۔ لہذا  جب انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تو ان پر اعتراض کیا گیا کہ انہوں نے مقام رہبری کی توہین کی ہے۔ جواب میں انہوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ جس طرح آیت اللّٰہ بہجت سے رہبری کو سلب کرنا اُن کی توہین نہیں، اسی طرح حجت الاسلام والمسلمین خامنہ ای سے مرجعیت کو سلب کرنا بھی ان کی توہین شمار نہیں ہوتی۔

کُھلا خط

آیت اللّٰہ آذری کو جب پتہ چلا کہ آیت اللّٰہ منتظری نے 1994 ء میں حجت الاسلام والمسلمین خامنہ ای کو  خفیہ  طور پر ایک پیغام کے ذریعے متنبہ کیا تھا کہ  ”آپ صرف رہبری پر اکتفا کریں اور فتویٰ کے کام کو اس کے قابل افراد  پر چھوڑ دیں۔“ تو انہوں نے عالی قدر فقیہ کے اس خصوصی پیغام کو اُس وقت کے صدر مملکت حجت الاسلام سیدمحمد خاتمی کے نام ایک کھلے خط میں برملا کر دیا۔ اس تاریخی خط میں آذری نے مقام رہبری کی مرجعیت کا انکار کرتے ہوئے ایک دفعہ پھر اجتہاد مطلق سے فاقد ہنگامی  رہبری کے نظریئے اور فقہی اعلمیت کی رعایت کی ضرورت پر تاکید کی۔ اس کے علاوہ وزارت خفیہ امور کی طرف سے آقائے خامنہ ای کی ناحق مرجعیت کو تقویت دینے ،  باقی مقبول مراجع کی شہرت کو سبوتاژ کرنے اور ان پر ڈالے جانے والے دباؤ کی تفصیل بیان ہوئی تھی۔

اس خط کے منظرعام پر آتے ہی انجمن مدرسین نے اپنے دو اعلامیوں میں انجمن کے شریک بانی اور صدر پر نام لئے بغیر شدید حملہ کیا اور کچھ ہی دنوں بعد مدرسہ فیضیہ میں آیت اللّٰہ آذری قمی کی درس  پر حملہ کیا گیا اور ”مرگ بر ضد ولایت فقیہ“ (ولایت فقیہ کا مخالف مردہ باد) کے نعروں کے ساتھ درس کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے روک دیا گیا، آذری قمی کے ساتھ شدید بدتمیزی کی گئی، ان کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے اور ایک برہانِ محکم! کے  ساتھ ولی فقیہ پر تنقید کرنے کا انہیں مزہ چکھایا گیا۔

مرجعیت کی رسوائی

اس کھلے خط کے  میڈیا پر آنے کے دو ہفتے بعد، آیت اللّٰہ منتظری نے 13 رجب کی اپنی تاریخی تقریر میں صریح الفاظ میں حجت الاسلام و المسلمین خامنہ ای سے کہا کہ اولاً ”آپ مرجعیت کے   حدود سے دور ہو“ اور انجمن مدرسین اور وزارت خفیہ امور نے آپ کو مرجعِ تقلید کہہ کر ”شیعہ مرجعیت کو رسوا کیا ہے“، ثانیاً، معتبر روایات کے مطابق ولایت فقیہ کے لئے”فقہی اعلمیت“ لازمی شرط ہے اور حجت الاسلام و المسلمین خامنہ ای یقیناً رہبری کے لئے لازم شرائط سے فاقد ہیں۔ اس تقریر کے بعد آذری قمی نے آیت اللّٰہ بہجت اور آیت اللّٰہ منتظری دونوں کی اعلمیت کی حمایت کرتے ہوئے  رہبر کو فقہی امور میں ان دونوں سے اجازت لینے کا ناکام مشورہ دیا۔

عوامی احجاج کا ڈرامہ

آیت اللّٰہ منتظری کی اس تقریر کے پانچ دن بعدسپریم کورٹ کے جج آیت اللّٰہ محمد یزدی کی ایما پر حکومتی اہلکاروں نے ”عوامی احتجاج“ کا ڈرامہ رچاتے ہوئےآیت اللّٰہ منتظری کے گھر اور درسگاہ اور آیت اللّٰہ آذری قمی کے دفتر پر دھاوا بول دیا، اور دونوں کے خلاف ”خوارج“، ”دین فروش“ اور ”خائن“وغیرہ جیسے سوقیانہ نعرے لگاتے ہوئے توڑ پھوڑ اور غارتگری کا بازار گرم کرنے کے بعد درسگاہ پر ناجائز قبضہ جما لیا۔ بعدازآں، ملک کی آئین کو روندتے ہوئے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکم سے دونوں مجتہدین کو  اس بہانے سے اپنے گھروں میں نظر بند کر دیا  گیا کہ ولایت کے دیوانوں کی طرف سے ان کی جانوں کو شدید خطرہ ہے۔

معذرت خواہی

دونوں معترض فقیہ نظربندی کے باوجود اپنے نظریات پر ڈٹے رہے، آیت اللّٰہ آذری قمی نے اپنے تنقیدی مکتوبات کے سلسلے کو جاری رکھا۔ ان مکتوبات میں پہلی بات یہ کہ انہوں نے آیت اللّٰہ العظمیٰ منتظری کے فقیہ اعلم  ہونے پر تاکید کی، دوسری بات یہ کہ رہبری کے لئے لازم شرائط کے فقدان کی وجہ سے انہوں نے حجت الاسلام والمسلمین خامنہ ای کو معزول قرار دیا، تیسری بات، اپنے گزشتہ نظریات جیسے ”وجوہات شرعیہ صرف رہبر کے مختص ہے“ پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے معذرت خواہی کی اور اپنے اس  فتویٰ کو ”ایک بے موقع فتویٰ“  قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ”اسے حذف ہونا چاہیے“۔انہوں نے حجت الاسلام والمسلمین خامنہ کی رہبری کو تقویت بخشنے کے لئے ماضی میں اپنے کارناموں اور جدوجہد پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے خدا و رسول(ص) اور عوام الناس سے  معافی مانگی، اور آخر میں انہوں نے حضرت آقائے خامنہ ای کو وزرات خفیہ امور کے توسط سے ہونے والی مجرمانہ کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اپنی موجودہ اور گزشتہ پوزیشن کے حوالے سے انہوں نے لکھا کہ جو کچھ انہوں نے ماضی میں لکھا وہ ”فقیہ کی شرعی ولایت“ کےبارے میں تھی اور حالیہ نظریات ”فقیہ کی قانونی ولایت“ سے مربوط ہے۔

مرنے سے پہلے موت کی خبر!

آیت اللّٰہ آذری قمی اور اُن کی عمر رسیدہ اہلیہ 15 مہینے کی نظربندی کے دوران شدیداً علیل ہوچکے تھے۔ آذری جوکہ بلڈ کینسر میں مبتلا ہوگئے تھے پے درپے بیہوشیوں اور کوما اور ہسپتالوں کے چکر کاٹنے کے بعد 12 فروری 1999ء میں خاتم الانبیاء ہسپتال میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ موت سے دس روز پہلے ہی ان کی مشکوک موت کی خبر ریڈیو سے نشر کی گئی! ان کی بیمار اہلیہ بھی 5 مہینے بعد اس دنیا سے چل بسیں۔ آیت اللّٰہ منتظری وہ واحد مرجع تھے جنہوں نے  تحریری طور پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے اُن کی قربانیوں کی قدردانی کی اور  اُن کی غیرقانونی نظربندی اور مظلومانہ موت پر تنقید کی۔

بے حِسی کی انتہا

روایت ہے کہ اُن  کی موت سے کچھ عرصہ پہلے مجلس خبرگان کے ممبر آیت اللّٰہ محمد مومن قمی آیت اللّٰہ خامنہ سے ملنے جاتے ہیں اور آیت اللّٰہ احمد آذری قمی کے بارے میں ان کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے وہ خود مومن قمی کی زبانی کچھ یوں ہے:

”آیت اللّٰہ آذری قمی کی وفات سے کچھ دیر پہلے میں آقا (آیت اللّٰہ خامنہ ای) سے ملنے گیا اور ان سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللّٰہ آذری قمی کے گھر کا محاصرہ اور نظربندی ختم  کرنے کی اجازت دیجیئے تاکہ اس جان لیوا بیماری کا علاج کرنے کے لئے انہیں ہسپتال  لے جایا جا سکے دوسری صورت میں ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ آقا نے میری گزارش کے جواب میں کہا : جہنم!“

باتشکر از ویب سایت فارسی دکتر محسن کدیور

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں